Sabhī haiṅ bhīṛ meṅ, tum bhī nikal sakō to chalō.
Idhar-udhar ka.ī manzilēṅ haiṅ, chal sakō to chalō,
Banē-banā.e haiṅ sāṅchē, jo ḍhal sakō to chalō.
Kisī ke vāste rāhēṅ kahāṅ badaltī haiṅ,
Tum apnē āp ko ḳẖud hī badal sakō to chalō.
Yahāṅ kisī ko ko.ī rāstā nahīṅ dētā,
Mujhē girā ke agar tum sambhal sakō to chalō.
Yahī hai zindagī—kuchh ḳẖvāb, chand ummīdēṅ,
Inhīṅ khilaunōṅ se tum bhī bahal sakō to chalō.
Har ik safar ko hai maḥfūẓ rāstōṅ kī talāsh,
Ḥifāẓatōṅ kī rivāyat badal sakō to chalō.
Kahīṅ nahīṅ ko.ī sūraj, dhuāṅ-dhuāṅ hai fiẓā,
Ḵẖud apnē āp se bāhar nikal sakō to chalō.
— Nidā Fazlī
سبھی ہیں بھیڑ میں، تم بھی نکل سکو تو چلو
ادھر اُدھر کئی منزليں ہیں، چل سکو تو چلو
بنے بنائے ہیں سانچے، جو ڈھل سکو تو چلو
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو
یہی ہے زندگی، کچھ خواب، چند امیدیں
انہی کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو
ہر ایک سفر کو ہے محفوظ راستوں کی تلاش
حفاظتوں کی روایت بدل سکو تو چلو
کہیں نہیں کوئی سورج، دھواں دھواں ہے فضا
خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو
— ندا فاضلی
सभी हैं भीड़ में, तुम भी निकल सको तो चलो
इधर उधर कई मंज़िल हैं, चल सको तो चलो
बने-बनाए हैं साँचे, जो ढल सको तो चलो
किसी के वास्ते राहें कहाँ बदलती हैं
तुम अपने आप को ख़ुद ही बदल सको तो चलो
यहाँ किसी को कोई रास्ता नहीं देता
मुझे गिरा के अगर तुम सँभल सको तो चलो
यही है ज़िंदगी, कुछ ख़्वाब, चंद उम्मीदें
इन्हीं खिलौनों से तुम भी बहल सको तो चलो
हर इक सफ़र को है महफ़ूज़ रास्तों की तलाश
हिफ़ाज़तों की रिवायत बदल सको तो चलो
कहीं नहीं कोई सूरज, धुआँ-धुआँ है फ़ज़ा
ख़ुद अपने आप से बाहर निकल सको तो चलो
— निदा फ़ाज़ली
Word Meanings & References
- Safar — Journey, life’s passage
- D̤hūp — Hardship, heat, struggle
- Bhīṛ — Crowd, conformity
- Manzil — Destination, goal
- Sāṅchē — Fixed molds, rigid systems
- Rāh — Path, way of life
- Maḥfūẓ — Protected, safe
- Ḥifāẓat — Security, safeguards
- Fiẓā — Atmosphere, environment
- Sūraj — Light, clarity, hope
Poem Explanation & Themes (English)
In “Safar Meṅ Dhoop To Hogī”, Nidā Fazlī presents life as a difficult journey filled with unavoidable hardships. The poet does not promise comfort or ease; instead, he offers honesty. The repeated line “jo chal sako to chalo” (if you can walk, then walk) is both a challenge and an invitation.
Fazlī criticizes blind conformity, symbolized by the crowd, and urges individuals to step out of pre-made molds. Progress, he suggests, requires inner transformation rather than waiting for the world to change. No one hands out paths in life—you must find balance even after falling.
The poem acknowledges fragile hopes, small dreams, and the human need for emotional comfort, yet warns against relying too much on artificial protections. True growth comes from courage, self-awareness, and the willingness to face uncertainty.
Themes:- Life as a journey filled with struggle
- Individual choice vs. conformity
- Self-transformation and resilience
- Illusions of safety and comfort
- Hope amid uncertainty
Ultimately, the poem is a quiet but powerful call to courage: if you have the strength to step out of fear and familiarity, then walk forward.
نظم کی تشریح اور موضوعات
اس نظم میں ندا فاضلی زندگی کو ایک مسلسل سفر کے طور پر پیش کرتے ہیں، جہاں دھوپ، تھکن اور مشکلات ناگزیر ہیں۔ شاعر کسی جھوٹی تسلی یا آسان راستے کا وعدہ نہیں کرتا، بلکہ حقیقت پسندانہ انداز میں قاری کو دعوت دیتا ہے کہ اگر حوصلہ ہے تو اس سفر میں قدم رکھو۔
نظم میں “بھیڑ” کا استعارہ سماجی تقلید اور اندھی پیروی کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ سب لوگ ایک ہی راستے پر چل رہے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا تم خود کو اس بھیڑ سے الگ کر سکتے ہو؟ یہاں فرد کی انفرادیت اور ذاتی انتخاب کو اہمیت دی گئی ہے۔
شاعر واضح کرتا ہے کہ زندگی میں راستے کسی ایک کے لیے نہیں بدلتے، بلکہ انسان کو خود کو بدلنا پڑتا ہے۔ گرنے کے بعد سنبھلنے کی بات دراصل خود اعتمادی، حوصلے اور اندرونی طاقت کی طرف اشارہ ہے۔ کوئی دوسرا انسان ہمیں سہارا نہیں دیتا، ہمیں خود ہی اٹھنا ہوتا ہے۔
نظم میں خوابوں اور امیدوں کو “کھلونوں” سے تشبیہ دے کر زندگی کی ناپائیداری اور سادگی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی امیدیں ہی انسان کو جینے کا حوصلہ دیتی ہیں، چاہے فضا دھوئیں سے بھری ہو اور سورج نظر نہ آ رہا ہو۔
مجموعی طور پر یہ نظم حوصلے، خود آگاہی اور داخلی آزادی کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل نجات باہر نہیں بلکہ اپنے اندر سے نکلنے میں ہے۔ اگر انسان خوف، عادت اور تحفظ کے خول کو توڑ سکے، تو ہی وہ زندگی کے اس سفر میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
مرکزی موضوعات:
- زندگی بطور مشکل سفر
- انفرادیت اور خود فیصلہ سازی
- حوصلہ اور خود انحصاری
- امید، خواب اور انسانی جدوجہد
- اندرونی آزادی اور خود آگاہی